قصہ اس شہزادی کا جو جسے وقت نے سلطان بنا دیا۔

گو کچھ مورخین اسے البانی نژاد کہتے ہیں لیکن درست یہ ہے کہ وہ ایک ترک کنیز تھی جسے عنفوان شباب کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی حلب کے بازار میں فروخت کردیا گیا تھا۔ یہ تو خیر کوئی نہیں جانتا کہ کرد شہزادے نے اس گوہر نایاب کو براہ راست بازار سے خریدا یا کسی چاپلوس وزیر سے بطور رشوت حاصل کیا لیکن یہ طے ہے کہ اس نے اپنے مسحور کن حسن اور دل آویز اداوں سے شہزادے کو چاروں شانے چک کردیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ایک طرف مشرق سے تاتاریوں اور مغرب سے صلیبیوں کی یلغار روز بروز بڑھ رہی تھی تو دوسری طرف خلافت عباسیہ کمزور ہوکر بغداد تک محدود تھی، عظیم سلجوق تتر بتر ہوکر اناطولیہ میں سستارہے تھے، سلطان التمش صنم خانہ ہند میں مقید تھے اور جلال الدین خوارزم شاہیہ اپنی سلطنت کھوکر سیلانی بناپھرتا تھا۔ ان حالات میں مصر اور شام کی ایوبی سلطنت واحد مزکز نگاہ تھی، ایک آخری چٹان جسے ڈھانے کے لئے پاپائے روم اور تاتاریوں نے تعاون کا عہد کیا۔ 1248 میں شاہ فرانس کی قیادت میں ساتواں صلیبی مشن روانہ ہوا تو اسکی منزل قاہرہ میں المنصورہ کے محلات تھے۔ وہ محل جسکی ملکہ کوئی اور نہیں، نزاکت کا مجسمہ شجرالدور تھی۔ ایسے کڑے وقت میں جب ایوبی سلطنت کے وفادار ترک مملوک میدان کارساز میں داد شجاعت دے رہے تھے، سلطان کا اچانک انتقال ہوگیا اور کمان خودبخود اس نازک اندام ملکہ کے ہاتھوں میں آگئی۔ ولی عہد کی واپسی تک وہ اپنی کمال ذہانت اور حسن انتظام کے بلبوتے پر سلطان کی وفات کو پوشیدہ رکھنے اور مملوک امراء ایبک، فارس الدین، قطز، ، بیبرس اور قلاوون کی مدد سے شاہ فرانس سینٹ لوئز کے ماتھے پر شکست کا گہرا داغ لگانے میں کامیاب ہوچکی تھی۔ ولی عہد توران خان کی واپسی پر ملکہ نے اقتدار اسکے حوالے کیا اور خود بیت المقدس روانہ ہوگئی۔ طاقتور مملوک نئے سلطان سے خوش نہ تھے اس لئے اسے قتل کرکے شجرالدور کو واپسی پر مجبور کیا۔ شجرالدور واپس آکر تخت مصر پر براجماع ہوئی تو وہ مصر کی پہلی اور عالم اسلام کی دوسری خاتون فرماروا قرار پائی۔ لیکن آخری عباسی خلیفہ المستعصم بااللہ نے اسے حکمران تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور ترک مملوک کو لکھ بھیجا کہ اگر تمہارے پاس کوئی مرد نہیں ہے تو کہو ہم بھیج دیتے ہیں۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ چند سالوں بعد مستعصم کے پاس بغداد کے تحفظ لے لئے شاید کوئی مرد موجود نہ تھا اور وہ بے بسی کی تصویر بنا عبرت ناک موت کا شکار ہوا۔ بہرحال خلیفہ اور شامی مملوک کے دباو پر چار و ناچار اس نے مملوک سپہ سالار عزالدین ایبک سے شادی کرکے تخت و تاج اسکے حوالے کردیا۔ کیونکہ شادی مصلحت کے گتھوں میں لپٹی تھی اس لئے شک و شبہات نے اسے مسلسل گھیرے رکھا۔ ملکہ چاہتی تھی کہ ایبک امور سلطنت میں اسکے مشورے کو حتمی تصور کرے اور اپنی دوسری تمام بیویوں کو چھوڑ دے۔ دوسری طرف ایبک کو شک تھا کہ اسکی طاقتور بیوی شام کے ایوبی امیر الناصر محمود کے ساتھ ملکر ساز باز کررہی ہے۔ اسی تناو کی کیفیت میں شجر الدور نے مبینہ طور پر محل کے ملازمین کو استعمال کرکے اپنے شوہر کو قتل کروا دیا۔ قطب کا قتل اور ملکہ کی کور اسٹوری مملوک عمائدین کو مطمئین نہ کرسکی۔ انہوں نے اقتدار ایبک کے بیٹے المنصور علی کے حوالے کرکے شجر کو نظربند کردیا۔ شجر کی وفات کے بارے میں مختلف قصے مشہور ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ المنصور علی اور اسکی ماں نے اسے پتھروں اور اینٹوں سے لہو لہان کرکے ہلاک کیا جبکہ بعض مورخین کے مطابق اسے برہنہ کرکے ایک بلند مینار سے دھکا دے دیا گیا تھا۔ غرض جو کچھ بھی ہوا، کئی روز تک اسکی لاش بے غور و کفن رہی پھر کسی نے کفن دفن کا انتظام کیا۔ ساتویں صلیبی جنگ کی ہیروئین اور عالم اسلام کی اس بلند آہنگ خاتون رہنما مسجد طولون کے صحن میں آسودہ خاک کردی گئی۔