سرمایہ دارنہ عالمگیریت و امریکہ کی مقامیت میں تضاد اور ٹرمپ کی فتح

ٹرمپ کی حالیہ غیر متوقع فتح کو مختلف تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس فتح کو لبرل سرمایہ داری کے داخلی تضادات کے تناطر میں سمجھایا جائے۔ طوالت کے خوف سے یہاں صرف اہم اشاروں پر اکتفا کیا جائے گا۔ لبرل سرمایہ دارانہ نظام ھمہ جہت داخلی تضادات کا شکار ہے جن میں سے ایک اہم سیاسی تضاد مقامیت و عالمگیریت کا تضاد ہے۔ لبرل سرمایہ داری اپنی وضع میں ایک عالمگیر نظام زندگی ہے۔ یہ نظام ایک عالمگیر تصور ذات و عقلیت پر مبنی ہے جو فرد کو معاشرے و تاریخ سے ماوراء فرض کرتا ہے۔ یہ تصور ذات فرد سے اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں اس بنیاد پر فیصلے کرے کہ "اجتماعی لذت و نفع خوری" میں اضافہ ہو۔ اس عقلیت کا اظہار بنیادی طور پر مارکیٹ میں ہوتا ہے۔ لبرل سرمایہ داری کے فروغ کے ساتھ کارپوریشن کی صورت میں قومیت سے ماوراء ایک "معاشی شناخت" وجود میں آئی ہے۔ کارپوریشن کسی ملک نہیں بلکہ گلوبل سرمائے کی نمائندہ ہوتی ہے اور بطور کارپوریشن سی ای او یہ شناخت فرد سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ فیصلے اس بنیاد پر لے کہ کارپویشن، نہ کہ اسکی قوم، کا نفع کس طرح بڑھ سکتا ہے۔ مگر لبرل سرمایہ داری سیاسی سطح پر "قومیت" سے ماوراء کسی مستحکم "سیاسی شناخت" کو فروغ نہ دے سکی۔ ایسے میں فرد کی سیاسی شناخت اسے اپنی "قوم" کی لذت و نفع کو مہمیز دینے کا حکم دیتی ہے جبکہ اسکی معاشی شناخت گلوبل سرمائے کا مفاد دیکھنے کا کہتی ہے۔ اس نظام میں بطور کارپوریشن سی ای او ایک فرد جس طرح دو شناختوں کے تضاد کا شکار ہے بعینہہ امریکہ (بشمول اسکی لیڈر شپ اور عوام) ایسے ہی سیاسی تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف امریکہ پر لبرل سرمایہ داری کو عالمگیر بنانے اور اسکے عالمگیر غلبے کی ذمہ داریاں ہیں جو اس سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں سے باہر مسلسل برسرپیکار رہے جس کے لئے اسے خطیر اخراجات کرنا پڑتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ ایک "قومی ریاست" ہے جسکی عوام یہ چاہتے ہیں کہ ترقی و سرمائے میں بڑھوتری تو ہو مگر امریکہ کی۔ امریکہ پچھلی کئی دھائیوں سے مسلسل بیرون ملک جنگوں و مہم جوئیوں میں مصروف ہے جس کے نتیجے میں امریکہ میں بیروزگاری میں اضافہ جبکہ سرکار کی طرف سے ملنے والی مراعات وغیرہ میں مسلسل کمی ہوئی۔ ایسے میں ایک عام امریکی یہ محسوس کرتا ہے کہ آخر امریکی عوام کی ٹیکس آمدن کو بیرون ملک عوام پر (مثلا USAID Grants کی صورت) کیوں خرچ کیا جاتا ہے؟ چنانچہ ٹرمپ جب "سب سے پہلے امریکہ" کا نعرہ لگاتا ہے تو اس کا یہی تاظر ہوتا ہے۔ ٹرمپ اسی بنیادی تضاد کو ایکسپلوائیٹ کرکے فتح یاب ہوا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ امریکی اشرافیہ و اسٹبلشمنٹ کا بڑا حصہ اس نعرے کی "اس توجیہہ" سے متفق نہیں۔ اسکے خیال میں امریکہ پر اپنی عالمگیر ذمہ داریاں خود امریکہ کی بالادستی قائم رکھنے کے لئے جاری رکھنا لازم ہے، بصورت دیگر کوئی دوسری طاقت امریکہ کی جگہ لے لے گی کیونکہ خلا ناممکن ہے۔ ایک چودھری کے بعد دوسرا لازما اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس اشرافیہ کا خیال ہے کہ امریکی عوام کو ان باتوں کا پوری طرح شعور نہیں اور ٹرمپ جیسے لیڈر انہیں گمراہ کرتے ہیں۔ دیکھتے ہیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔