New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

غالب کا مزاح بھی اپنی مثال آپ

لاہور: مرزا غالب کی شاعری تو شہر ہ آفا ق ہے ہی لیکن ان کے واقعات بھی اپنی مثال آپ ہیں۔غالب کے لفظوں کا استعمال مزاح کو جو رنگ دے گیا وہ غالب ہی کا کمال تھا ۔غالب کے گھر میں جو ا کھیلا جا رہا تھا۔پولیس آئی غالب کو پکڑ کر لے گئی۔غالب کے مداح ایک دوست میاں کالے تھے۔انھوں نے غالب کو قید سے آزاد کروایا اور اپنے گھر لے گئے۔وہاں ایک اور مداحِ غالب آئے اور قید سے آزاد ہونے پر مبارک باد دی۔غالب نے فوراًکہا ٴٴ کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے پہلے گورے کی قید میں تھا اب کالے کی قید میں ہوں۔اہلِ دہلی اور اہلِ لکھنؤکی زبان دانی کے اختلافات مشہور ہیں۔۔اہلِ دہلی جس موقع پر ٴٴاپنے تیئ ں ٴٴ کا استعمال کرتے ہیں اْس موقع پر اہلِ لکھنؤ ٴٴآپ کو ٴٴ استعمال کرتے ہیں۔دونوں اسکول کی رقابت اور اختلافاتِ بیان مشہور ہیں۔غالب ایک مرتبہ لکھنؤ تشریف لے گئ تو کسی صاحب نے ان دونوں لفظوں کو غالب کی جناب میں پیش کیا۔ان کی رائے دریافت کی۔غالب نے کہا اپنے تیئ ں کے مقابلے میں آپ کو ضرور فصیح ہے مگر اس میں دِقت یہ ہے کہ مثلاًآپ میری نسبت یہ فرمائیں کہ میں آپ کو فرشتہ صفت جانتا ہوں اور میں اس کے جواب میں اپنی نسبت یہ عرض کروں کہ ٴٴمیں تو آپ کو کْتے سے برتر سمجھتا ہوں تو سخت مشکل واقع ہوگی۔میں تو اپنی نسبت کہوں گا اور آپ ممکن ہے کہ اپنی نسبت سمجھ جائیں گے ٴٴ۔۔ماہِ رمضان ختم ہونے کے بعد عید ملنے مرزا غالب بہادر شاہ ظفر کے دربار میں حاضر ہوئے۔بادشاہ نے پوچھا ٴٴغالب ٝ تم نے کتنے روزے رکھےٴٴ؟ غالب نے نہایت سادگی سے کہا ٴٴپیرومرشدٝ ایک نہیں رکھاٴٴ۔ایک دفعہ غالب مکان بدلنا چاہتے تھے۔ایک مکان آپ خود دیکھ کر آئے۔اس کا دیوان خانہ پسند آگیا مگر محل سرا نہ دیکھ سکے۔گھر پر آکر اس کو دیکھنے کے لئے بیوی کو بھیجا۔وہ دیکھ کر آئیں تو غالب نے بیوی سے پوچھا ٴٴ مکان پسند آیا یا نہیں ٴٴ؟ انھوں نے کہا کہ اس میں بلئیات ہیں مرزا غالب نے کہا ٴٴ کیا دنیا میں آپ سے بڑھ کر بھی کوئی بلا ہےٴٴ۔۔نواب یوسف علی خان والئ رام پور کا انتقال ہو جانے پر غالب تعزیت کے لئے رام پور تشریف لے گئے تھے۔جب نواب کلب علی خان فرزند یوسف علی خان مرحوم لیفٹننٹ گورنر سے ملنے بریلی آئے ان کے ہمراہ غالب بھی تھے جو تعزیت کے بعد دہلی جا رہے تھے۔نواب صاحب نے چلتے چلتے کہاٴٴخدا کے سپردٴٴغالب نے کہا ٴٴ حضورٝ خدا نے مجھے آپ کے سپرد کیا ہے اور آپ پھر الٹا مجھکو خدا کے سپرد کرتے ہیںٴٴ۔۔غالب کے جہاں سینکڑوں مداح تھے وہیں چند مخالفین بھی تھے۔ایک مولوی امین الدین ان میں سے تھے۔غالب کی کتاب ٴٴقاطع برہاںٴٴ کے جواب میں ایک رسالہٴٴقاطع قاطعٴٴ کے نام سے جاری کیاجو فحش الفاظ سے لبریز تھا۔کسی نے کہا حضور غالب آپ نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا۔غالب نے کہا ٴٴاگر کوئی گدھا تمھیں لات مارے تو تم بھی اْس گدھے کو لات مارو گےٴٴ۔ہندوستان بھر سے مرزا غالب کے سینکڑوں شاگردوں کے اصلاحِ کلام کے خطوط آتے رہتے تھے۔آخری عمر میں اشعار کی اصلاح دینے سے غالب گھبراتے تھے لیکن پھر بھی کسی کا قصیدہ یا غزل بغیر اصلاح کئے واپس نہ کرتے تھے۔ایک صاحب کو لکھا کہ شاہ بو علی قلندر کو بہ سبب کبر سنی خدا نے فرض نماز اور پیغمبر نے سنت معاف کر دی تھی۔میں متوقع ہوں کہ میرے دوست بھی خدمتِ اصلاحِ اشعار سے مجھے معاف کریں


loading...