حیرت انگیز

amazing
فلسطین میں ایک شخص نے لمبی نماز پڑھانے پر امام مسجد کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جسے گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ۔’’العربیہ ‘‘ نے دعویٰ کیا کہ فلسطین کے شمالی شہر نابلس کی مسجد میںایک...
amazing
سعودی عرب کی وزارت انصاف نے اپنے حالیہ جاری کردہ اعلامیہ میں خواتین کو آسانیاں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ سعودی گزٹ کی تفصیلات کے مطابق خواتین قانونی کاروائی کے لئے اپنی کسی بھی قریبی...
amazing
خیبر پختونخوا اسمبلی میں شام پر امریکی حملے اورسوشل میڈیا پرتوہین آمیز خانوں کے خلاف قراردادیں منظور کرلی گئیں،اجلاس میں اسپیکر اسد قیصر پر الزامات سے متعلق بحث میں نون لیگ اراکین...
amazing
سپر پاور کمپنی نے سستی الیکٹرک کاریں پاکستان میں متعارف کروا دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں پہلی مرتبہ الکٹرک موٹر سائیکل متعارف کروانے والی کمپنی سپر پاور نے اب سستی گاڑیاں بھی...
amazing
کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے قوال امجد صابری کے اہلخانہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے ملک چھوڑنے پر غور کررہے ہیں۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے 40 سالہ...
amazing
بلاول بھٹو نے کلبھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا دینے کی مخالفت کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دیے جانے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین بلاول...
amazing
خود کوپاک فوج کا جنرل ظاہر کر کے سیاستدانوں کو بے وقوف بنانے والا شخص گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتار شخص نے اپنے جُرم کا اعتراف...
amazing
محکمہ بلدیہ رحیم یارخان نے وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازکے داماد راحیل منیرکے پوسٹرزاتاردیے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق محکمہ بلدیہ رحیم یارخان کے حکام کاکہناہے کہ گزشتہ رات...
amazing
کولمبس، اوہایو: ایک سروے کے بعد ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اگر آپ رات کا کھانا ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کھاتے ہیں تو اس سے موٹاپے کا خدشہ 40 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ کولمبس میں واقع اوہایو کالج آف...
amazing
سفر کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا سہارا لینے والی خواتین کا ماننا ہے کہ نئی سروس سے منزل مقصود تک پہنچنا نہ صرف ان کے لئے آسان ہوگا بلکہ اطمینان بخش بھی ہوگا ، اب صرف ایک کال یا ایس ایم ایس پر پنک...
amazing
بوسٹن: مری ہوئی بلی کے گرد امریکی مرغیوں (ٹرکیز) کے انوکھے رقص کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں جنہیں دیکھنے والے حیرت زدہ ہیں۔ ٹوئٹر اور یو ٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی یہ ویڈیوز بوسٹن کے...
amazing
غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے جرم میں سزا کاٹنے والے سنجے دت کے لیے بالی وڈ اب شاید کافی بدلہ بدلہ ہو۔ رنبیر کپور سنجے دت کا کردار ادا کریں گے کئی نئے ہیرو سامنے آ چکے ہیں اور ایسے میں سنجے دت خود...
amazing
لندن: ہم جانتے ہیں کہ کیلیوریز سے بھرپور مرغن غذاؤں اور ورزش سے جی چرانا موٹاپے کو دعوت دیتا ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ آپ کے گھر میں موجود کم خرچ اشیا سے موٹاپے کو روکاجاسکتا ہے۔ سرخ مرچ: سرخ...
amazing
کیلیفورنیا: امریکی ماڈل اور میک آپ آرٹسٹ نے مسلسل 110 مرتبہ کاسمیٹک سرجری کروانے کے بعد خود کو کو خلائی مخلوق بنوالیا ہے۔ وِنی اوہ نے اس کے لیے 50 ہزار ڈالر (پاکستانی 50 لاکھ روپے) سے زائد...
amazing
کولمبس، اوہایو: ایک سروے کے بعد ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اگر آپ رات کا کھانا ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کھاتے ہیں تو اس سے موٹاپے کا خدشہ 40 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ کولمبس میں واقع اوہایو کالج آف...
New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

خاموش بیماری جو لاکھوں جانیں لے جاتی ہے

پیٹرک کین کا کہنا ہے کہ ’میرے دل کی دھڑکن سات مرتبہ رک گئی اور کافی دیر تک یہ واضح نہیں تھا کہ کیا میں بچ پاؤں گا یا نہیں۔‘
وہ ایک ایسی بیماری کی وجہ سے مر جانے والے تھے جو کہ برطانیہ میں ہر سال مجموعی طور پر آنتوں، بریسٹ اور پراسٹیٹ کینسر کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کو ملا کر بھی اس سے زیادہ جانیں لیتی ہے۔
پیٹرک صرف نو ماہ کی عمر کے تھے جب ایک صبح وہ بے ہوش ہوگئے۔
ان کے فیملی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ پیٹرک کو صرف کال پول دوائی چاہیے تھی مگر ان کی والدہ کو شک تھا کہ معاملہ زیادہ سنگین ہے۔ اسی لیے وہ پیٹرک کو ہسپتال لے گئیں۔
مگر ہسپتال کے راستے میں چیزیں اور زیادہ خراب ہونے لگیں۔ اور ہسپتال پہنچنے تک ان کے مختلف اندرونی اعضا ناکام ہونے لگے۔
پیٹرک نے لندن کے سینٹ میریز ہسپتال میں ساڑھے تین ماہ گزارے۔ ان کی بیماری اتنی شدید تھی کہ گھٹنے سے نیچے ان کی دائیں ٹانگ، بائیں بازو، اور دائیں ہاتھ کی انگلیاں سب ضائع ہو گئیں۔
اور آج، کئی سالوں بعد، 19 سالہ پیٹرک یونیورسٹی آف ایڈنبراہ میں بائیو کیمسٹری کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
اور جو ان کو بیماری تھی، اس کا نام ہے سیپسز۔
پیٹرک کا کہنا تھا کہ سیپسز ایک ایسی بیماری ہے جو کہ عام فہم میں نہیں آئی۔ ’یا تو آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کو یہ بیماری ہے یا پھر آپ نے اس کے بارے میں عموماً سنا ہی نہیں ہوتا۔‘
سیپسز کیا ہوتا ہے؟
سیپسز کسی بھی انفیکشن کی وجہ سے شروع ہوتا ہے مگر اصل مسئلہ ہماری قوتِ مدافعت کا ضرورت سے زیادہ حرکت میں رہنا ہوتا ہے۔
کوئی بھی انفیکشن جب جسم میں آتا ہے تو قوتِ مدافعت اس کا مقابلہ کرتی ہے۔ سیپسز کے مریض میں قوتِ مدافعت ضرورت سے زیادہ کام کرتی ہے اور جسم کے انفیکشن سے پاک حصوں کو بھی نقصان پہنچانے لگتی ہے۔ اس کی وجہ سے مختلف اندرونی اعضا کا فیل ہونا اور سیپٹک شاک، یہاں تک کہ موت کا خطرہ ہوتا ہے۔
برطانیہ میں ہر سال اس بیماری سے 44000 لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔
سیپسز کی علامات کیا ہیں؟
برطانیہ میں سیپسز ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ان چھ علامات سے باخبر رہنا چاہیے:
- بات کرتے وقت زبان کا لڑکھڑانا
- حد سے زیادہ کانپنا یا پٹھوں میں تکلیف
- پورے دن میں پیشاپ نہ آنا
- حد سے زیادہ سانس چڑھنا
- مریض کا ایسا محسوس کرنا کہ وہ مرنے والا ہے
- جلد کی رنگت کھو جانا
چھوٹے بچوں میں اس کی علامات یہ ہو سکتی ہیں:
- بچے کا رنگ کھونے لگے یا وہ نیلا لگنے لگے
- بچہ انتہائی تھکا ہوا رہے اور اسے نیند سے اٹھانا مشکل ہو
- چھونے پر بچہ انتہائی ٹھنڈا ہو
- انتہائی تیزی سے سانس لے
- اس کی جلد پر ایسی خراش ہو جو کہ دبانے سے رنگ نہ بدلے
- بچے کو جھٹکے لگیں
پیٹرک کا کہنا ہے کہ سیپسز کی کوئی ایک واضح علامت نہیں ہے مگر لوگوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں کوئی اور لگنے والی بیماری سیپسز تو نہیں؟
کیا سیپسز ک بارے میں کچھ کیا جا سکتا ہے؟
اس حوالے سے برطانیہ میں این ایچ ایس کوششیں کر رہی ہے مگر شاید وہ کافی نہیں ہیں۔ 2015 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی میں داخل کیے جانے والے ہر 10 مریضوں میں سے 4 ایسے ہیں جن کا جائزہ درکار وقت میں نہیں کیا جاتا اور تقریباً ایک تہائی کیسز میں اینٹی بائیوٹکس دینے میں تاخیر کی وجہ سے مسائل ہوتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے لیے علاج کے بہترین طریقے تعین کرنے والے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے نئے قوانین بنا رہے ہیں۔
تنظیم کی ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو کا کہنا ہے کہ ’حالیہ کیسز کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مختلف لوگوں کو سیپسز کی مختلف علامات ہوتی ہیں اور ان میں کوئی مسلسل طور پر سامنے نہیں آتی۔‘
’تیزی سے علاج کرنے کے لیے اور زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔‘


loading...