حیرت انگیز

amazing
وہ افراد جو ڈنر کے وقت ٹی وی نہیں دیکھتے ان میں موٹاپے کا خطرہ 40 فیصد کم ہوجاتا ہے
amazing
ٹیکسی سروس میں خواتین ہی ڈرائیونگ کے فرائض انجام دیں گی اور اس میں صرف خواتین مسافر ہی سفر کر سکیں گی کراچی (روز نیوز ) کراچی میں خواتین کے سفر کو آسان اور سہل بنانے کے لئے پنک ٹیکسی سروس...
amazing
سوشل میڈیا پر مردہ بلی کے گرد ٹرکیز کے انوکھے رقص کی ویڈیوز نے دیکھنے والوں کو حیران کردیا۔ فوٹو؛ اسکرین گریب
amazing
بالی وڈ کے اداکار سنجے دت پانچ برس کے وقفے کے بعد فلموں میں واپس آ رہے ہیں۔
amazing
لندن: ہم جانتے ہیں کہ کیلیوریز سے بھرپور مرغن غذاؤں اور ورزش سے جی چرانا موٹاپے کو دعوت دیتا ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ آپ کے گھر میں موجود کم خرچ اشیا سے موٹاپے کو روکاجاسکتا ہے۔
amazing
کیلیفورنیا: امریکی ماڈل اور میک آپ آرٹسٹ نے مسلسل 110 مرتبہ کاسمیٹک سرجری کروانے کے بعد خود کو کو خلائی مخلوق بنوالیا ہے۔
amazing
کولمبس، اوہایو: ایک سروے کے بعد ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اگر آپ رات کا کھانا ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کھاتے ہیں تو اس سے موٹاپے کا خدشہ 40 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
amazing
پاکستان میں پانچ دن پہلے سوائے ایک انگریزی اخبار (ایکسپریس ٹریبون) کسی نے خبر شائع نہیں کی کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں پولیس نے ایک مکان پر چھاپہ مار کے 35 خواجہ سراؤں کو حراست میں لے لیا۔
amazing
فلسفہ
amazing
کراچی: اگر آپ روزانہ صبح ایک گلاس نیم گرم پانی میں لیموں کا رس نچوڑ کر پینے کی عادت ڈال لیں تو اس سے آپ کی صحت پر حیرت انگیز اثرات مرتب ہوں گے۔
amazing
یہ روبوٹ انسانی کھلاڑی کو ٹیبل ٹینس سکھاتا ہے اور سامنے والے کو دیکھتے ہوئے خود کو تبدیل کرتا ہے اور کھلاڑی کو ماہر بنانے کے لیے مفید مشورے بھی دیتا رہتا ہے۔
amazing
بارسلونا میں جاری ’موبائل ورلڈ کانگریس‘ (ایم ڈبلیو سی) 2017 میں موبائل فوٹوگرافی میں صفِ اوّل کے عالمی ادارے ’اوپو Oppo‘ نے حاضرین کے سامنے پہلی مرتبہ اپنی انقلابی اور جدید ترین ’5x...
amazing
لاہور میں ٹیسٹ کرکٹر عمر اکمل کا ٹریفک وارڈن سے جھگڑا ہو گیا
amazing
سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912 ئ کو لدھیانہ کے قصبہ سمر ا لہ میں پیدا ہوئے
amazing
برسبین: بار بار فضائی سفر کرنے والے خواتین و حضرات کو سامان اٹھانے، سنبھالنے، اشیا کھو دینے یا اضافی سامان پر رقم دینے کا خوف ستاتا رہتا ہے لیکن اب اس کا حل ایک کمپنی نے ’’ایئرپورٹ...
New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

ارسطو کے نزدیک تعلیم کے تین بنیادی مقاصد کونسے ہیں

ارسطو کے نزدیک تعلیم کے تین بنیادی مقاصد ہیں
۱۔ زندگی کے مقصد purpose of life ور کائنات کی حقیقت کو جاننا
۲۔ اپنے اخلاق کو سنوارنا اور بہتر انسان بننا
۳۔ تعلیم کے ذریعے دنیاوی زندگی میں آگے بڑھنا اور ترقی کرنا
اب موجودہ دور میں ہمارے تعلیمی اداروں میں رائج نظام تعلیم میں پہلے دو مقاصد تو سرے سے ہی نہیں پائے جاتے یعنی ہمارےطالب علم کونہ تو یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کی زندگی کا آخر مقصد کیا ہے اور اور نہ ہی اس کو اخلاقیات کے حوالے سے کوئی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ وہ ایک بہتر انسان بن سکے اور معاشرے میں کوئی مفید کردار ادا کرسکے۔ البتہ ان تعلیمی اداروں میں صرف تیسرے مقصد پر توجہ دی جاتی ہے کہ کیسے اس تعلیم کے ذریعے دنیاوی زندگی میں آگے بڑھا جائے اور زیادہ پیسے کمائے جائیں نتیجتاً ہمارے یہ تعلیمی ادارے ایسے افراد پیدا کررہے ہیں جن کے نزدیک زندگی کا واحد مقصد اسی دنیا کی زندگی اور یہیں کی ترقی و خوشحالی ہے یعنی ایسے مادہ پرست Materialistic لوگ جو اپنی زندگی کا واحد مقصد اسی دنیا کی زندگی کو بنائے ہوتے ہیں اور اخلاقی لحاظ سے حد درجہ متکبریعنی Ego-Centric
دراصل اسلام کا اپنا ایک نظریہ حیات Worldview ہے جس میں اصل اہمیت دنیا کی زندگی کی بجائے آخرت کو حاصل ہے جبکہ موجودہ سرمایہ دارانہ Capitalistic نظام کی بنیاد پر قائم ان تعلیمی اداروں میں جو تعلیم دی جاتی ہے اس کا اصل مقصد اسی دنیا کی مادی زندگی تک ہی محدود ہے۔
دوسری طرف ہمارے دینی مدارس کی اکژیت کا یہ معاملہ ہے کہ وہاں ایسے علماء پیدا کئے جاتے ہیں جن کے پاس دین کا علم اور فہم تو ہوتا ہے ہے لیکن ان میں تنگ نظری اور سخت گیری Rigidness حد درجہ پائی جاتی ہے اوروہ اپنے اپنے مسلک کی ترویج و اشاعت کو ہی دین کی خدمت سمجھتے ہیں ۔ ایسے علما ء کا تمام تر زور صرف اسلام کے فقہی معاملات پر ہوتا ہے جبکہ دین کے سیاسی، معاشی۔ معاشرتی اور نظریاتی پہلو اُن کی نظروں سے عموماً اوجھل ہوتے ہیں۔
اس لئے یہاں ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جس میں دنیاوی کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا بھی انتظام ہو ۔ جہاں پر کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے طالب علم کو کم از کم دین کے مبادیات مثلاً قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر ، اصول حدیث اور اصول تفسیر سے آگاہی ضرور ہو اور جن کے سامنے اسلام کا نظریہ حیات واضح ہو اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ایک طالب علم بھی دین کا علم حاصل کرنے کے لئے systematic study ویسے ہی کرے جیسے وہ دیگر علوم کی تحصیل کے لئے کرتا ہے مگر افسوس آج کا مسلمان تو دین کو موروثی سمجھتا ہے بس باپ دادا سے ورثے میں مل گیا ہے بس یہی کافی ہے چاہے بچپن میں ناظرہ قرآن ختم کرلینے کے بعد قرآن مجید کو کبھی دوبارہ کھول کر بھی نہ دیکھا ہو۔


loading...