اس گلشن دنیا میں شگفتہ نہ ہوا میں

اس گلشن دنیا میں شگفتہ نہ ہوا میں ہوں غنچۂ افسردہ کہ مردود صبا ہوں ہم چشم ہے ہر آبلۂ پا کا مرا اشک از بس کہ تری راہ میں آنکھوں سے چلا ہوں آیا کوئی بھی طرح مرے چین کی ہو گی آزردہ ہوں جینے سے میں مرنے سے خفا ہوں دل خواہ جلا مزید پڑھیں

شاید جگر حرارت عشقی سے جل گیا

شاید جگر حرارت عشقی سے جل گیا کل درد دل کہا سو مرا منھ ابل گیا بے یار حیف باغ میں دل ٹک بہل گیا دے گل کو آگ چار طرف میں نہ جل گیا اس آہوئے رمیدہ کی شوخی کہیں سو کیا دکھلائی دے گیا تو چھلاوا سا چھل گیا دن رات خوں کیا مزید پڑھیں

سکوت و خامشی اظہارِ حالِ بے زبانی ہے

سکوت و خامشی اظہارِ حالِ بے زبانی ہے کمینِ درد میں پوشیدہ رازِ شادمانی ہے عیاں ہیں حال و قالِ شیخ سے اندازِ دلچسپی مگر رندِ قَدَح کش کا ابھی دورِ جوانی ہے ثباتِ چند روزہ کارفرمائے غم و حسرت اجل سرمایہ دارِ دورِ عیش و کامرانی ہے گدازِ داغِ دلِ شمعِ بساطِ خانہ ویرانی مزید پڑھیں

یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کے

یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کے پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے سیاب پشت گرمیِ آئینہ دے ہے، ہم حیراں کیے ہوئے ہیں دلِ بے قرار کے بعد از وداعِ بہ خوں در طپیدہ ہیں نقشِ قدم ہیں ہم کفِ پائے نگار کے ظاہر ہے ہم سے کلفتِ بختِ سیاہ روز مزید پڑھیں