گرم پانیوں کی جنگ، روس اور چائنہ کا الگ الگ انداز

کالم نگار: انجینئر حسن مجتبی
بات زیادہ پرانی نہیں کرہ عرض پر دو عالمی قوتیں اپنی گرفت جمائے ہوئی تھیں ایک سیاہ فاموں سے چھینا گیا امریکا اور دوسرا سکندرِ اعظم کی لڑی گئی خونریز جنگوں کا آخری محاز روس، گویا تاریخ نے ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو دھورایا تھا صدیوں پہلے بھی زمین پر دو ہی عالمی طاقتوں کا راج تھا ایران اور فارس،یہ اور بات کہ دونوں ہی کو حجاز کے بوریا نشینوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور تاریخ کی ازلی عادت ہے کہ یہ اپنے آپ کو بار بار دہراتی ہے اور جو اسکا سبق یاد نا رکھیں انھیں میدان اور معرکے میں اس غفلت کی بڑی قیمت چکانا ہوتی ہے۔ماضی قریب کی دونوں سپرپاورز کو بھی ایک کہ بعد ایک انھیں درویش بوریا نشینوں سے حزیمت کا سبق پڑھنا پڑھا۔روس گرم پانیوں کے حصول کیلئے طاقت کے گھمنڈ میں افغانستان پر چل دوڑا اور ستاون بلین ڈالر پھونک ڈالے پندرا ہزار فوجی تابوتوں کی نظر کروا کر اور سات ٹکروں میں تقسیم ہو کر نامرادی کی داستان لکھنے پر مجبور ہوا۔ آج بھی روس کی گرم سمندروں کی جستجو اس کو دربدر کئے ہوئے ہے اور وہ شام میں ایک اور خونی داستان تحریر کر رہا ہے،اس کے برعکس ابھرتی ہوئی سپرپاور چائنہ نے بیاسی بلین ڈالر خرچے اور گوادر کے ساحلوں تک جا پہنچا ،آج ایک زمانے کی نظر گوادر کی اس قدرتی بندرگاہ کی جانب ہے جو دنیا کی سب سے انوکھی اور مفید بندرگاہ کا سہرہ اپنے نام رکھتی ہے ۔فرق پالیسی کا تھا ،روس کی پالیسی نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اسے تابوتوں کے انبار دیے اس کی اکانومی کو کرش کردیا اور اسے دنیا میں تنہائی کا چولہ پہنا دیا۔چین نے بارود اڑایا نا خاک و خون کا ہولناک کھیل کھیلا ناہی گولی چلی ناہی گردنیں کٹیں اور سمندری تجارت کی سب سے بڑی داستان رقم ہوئی۔آج کی تازہ خبر یہ ہی ہے کہ اب فاتح وہ نہی کہلائے گا جو اونچے مینارکھوپڑیوں کے تعمیر کرے اب فتح کا تمغہ اس کے سینے پر سجے گا جو داشمنندی کی چال چلنے کا ہنر اور دوسروں کے مفادات میں اپنی ترقی تلاشنے اور تراشنے کا سلیقہ جانتا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں