تواردکیا ہے

کالم نگار: مزمل شیخ بسملؔ
آب حیات میں ایک واقعہ ذوقؔ سے منسوب ہے کہ ایک بار دہلی میں کہیں مشاعرہ ہوا تو حکیم آغا جان عیش جو کہ اس وقت کے کہنہ مشق اساتذہ میں سے تھے۔ انہوں نے اپنی غزل کا ایک شعر پڑھا: اے شمع! صبح ہوتی ہے، روتی ہے کس لیے تھوڑی سی رہ گئی ہے اسے بھی گزار دو جب کہ ذوق کا شعر اس طرح تھا: اے شمع! تیری عمر طبیعی ہے ایک رات رو کر گزار یا اسے ہنس کر گزار دے اس طرح کے بیسیوں واقعات کتابوں میں درج ہیں، جس میں بعض جگہ تو الفاظ اور نشست تک کا فرق نہیں آتا۔ توارد اصطلاح میں ایک ایسا اتفاق ہے کہ جس میں ایک ہی جیسا شعر یا مصرع یا قطعہ دو شاعروں کے ہاں ہو بہو الفاظ یا انداز کے ساتھ آجائے۔ اسے مضمون کا لڑنا بھی کہتے ہیں۔ یہ سرقہ (چوری) نہیں ہے کیونکہ اتفاقی طور پر ہوبہو اشعار ایک وقت میں یا مختلف وقتوں میں دو مختلف شاعروں سے سرزد ہو جاتے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ توارد اور سرقہ میں فرق صرف شاعروں کے درست اور مصدقہ حالات کے بارے میں جان کر ہی کیا جاسکتا ہے کہ آیا کوئی واقعی چور تھا یا نہیں۔ یعنی کہ ایک سرقہ در حقیقت توارد بھی ہوسکتا ہے۔ اور ایک توارد سرقہ بھی۔ اگر واقعی توارد ہے تو میری نظر میں یہ محض اتفاق کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اور اس اتفاق کی وجوہات نفسیات سے متعلق ہوتی ہیں۔ ادب میں ہیئت اور نوعیت کی مطابقت اور مماثلت میں ایسا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوتی۔ تاہم اس مظہر کی کوئی غیر مرئی یا غیر فطری تشریح کرنا غیر مناسب ہے۔ علمِ نفسیات ہمیں اس کی درست رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ کس طرح کوئی خیال ہمارے لاشعور میں غیر شعوری طور پر محفوظ ہو کر کسی غیر معینہ انداز میں ابھرتا ہے۔ خیالات میں مماثلت کا وقوع پذیر ہونا بھی اسی سے متعلق ہے۔ خیالات موجود ہوتے ہیں۔ باندھنے اور بیان کرنے کے انداز مختلف ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاعری ہمارے جذبات کو مشتعل کرتی ہے۔ کیونکہ ہمارے سائکولوجیکل سیلف (نفسیاتی وجود) میں ایک ہی ماحول اور ایک ہی حالات کی وجہ سے خیال اور مظاہر کی مماثلتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور جب انہی خیالات کو کوئی شستہ و شائستہ پیرائے میں نثری یا شعری زبان میں بیان کردے تو دماغی تسکین کی وجہ بنتا ہے۔ اب ایک ہی خیال سے متعدد دماغوں کی تسکین کا یہ عمل اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم نثری یا شعری مضامین کے انتخاب میں مطلق طور پر آزاد نہیں ہوتے۔ در اصل یہ وہی مضامین ہوتے ہیں جو ہمارے معاشروں میں حالات و واقعات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور ادب میں ان کی ترسیل اور تشکیل جاری رہتی ہے۔ ایسے میں ایک ہی مضمون ایک سے زیادہ مرتبہ دہرایا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں رہتی۔ بس کچھ لوگ بیان کرتے ہیں اور باقی صرف پڑھنے اور سننے پر اکتفا کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں