بدنام ہوں گے توکیانام۔۔۔تحریر: محمدنعمان حیدری

جعلی شناختی کارڈبنوانے والے کو7 اورنادرااہل کاروںکو14برس قیدہوگی منسوخی کے لیے چودھری نثارنے 2ماہ کاالٹی میٹم دے دیا ۔ پاکستان وہ واوحد اسلامی ریاست ہے کہ جس کوفقط لاالٰہ الااللہ کے نام پرحاصل کیاگیااوریہ عہدکیاگیاتھاکہ یہی ایک ریاست ہوگی مدینہ منورہ کے بعدجہاںمسلمان خالصتاًدیسی گھی کی طرح اپنے اللہ کی عبادت کرسکیںگے اسی لیے ہندستان میںبسنے والے مسلمانوںنے اپنی جان، اپنامال، گھربار،اولاد،بیوی، بچے، دوست احباب اور نوکرچاکرقربان کردیے کیوںکہ انہیںایمان سے بڑھ کرکوئی شے نظرنہیںآرہی تھی لیکن یہاںآکرانہیںپتاچلاکہ ہم تودھوکے میںمارے گئے اس لیے کہ یہ خالص اسلامی ریاست نہیںہے یہاںہندوبھی ہوںگے عیسائی بھی ہوںگے یہودی بھی غرض کوئی بھی مذہب اس ریاست سے خالی نہیںہوگااس کے بعدوہ ایمان داری کے ساتھ چلتے رہے اوراپنی زندگی گزارگئے ان لوگوںکے بعدان کی نسلوں نے اپنے آباﺅاجدادکے ساتھ ہونے والے دھوکے کابدلہ لینے کی ٹھان لی کہ وہ اگرخالص اسلامی ریاست کے نام پردھوکے اورجعل سازی میںمارے گئے تواب ان کی نسلیںاس کاانتقام لیںگی چنانچہ وہ اپنی ایمانداری میںایسے آئے کہ اس کے بعدنہ چینی خالص رہی نہ گڑ،مرچیںخالص رہیںنہ دھنیاں،ہلدی خالص رہی نہ نمک، اچارخالص رہانہ چٹنیاں،دودھ خالص رہانہ مکھن ،گرم مسالے خالص رہے نہ مٹھائیاں،گھی خالص رہانہ تیل، آٹاخالص رہانہ چاول اورگوشت خالص رہانہ سبزیاں اورتواورحتیٰ کہ ایمان بھی خالص نہ رہااب اگرآپ نگاہ دوڑائیں اسی ملک میںتودودھ کے نام پرپاﺅڈرملاپانی مرچوںکے نام پرپتھرشہدکے نام پرخالص گڑاورگوشت کے نام پرانسان کتے گدھے کھلائے جارہے ہیںچینی توہے مٹھاس نہیںشہدتوہے لیکن طاقت نہیںاب پاکستان وہ واحدملک بن گیاہے جہاںجعلی والدجعلی اولادجعلی گوشت جعلی اکاﺅنٹ جعلی بیوی جعلی محبت جعلی اشتہارجعلی ایم این اے ،ایم پی اے اورمیئرجعلی مقابلے ،جعلی آفیسر،جعلی پیر،جعلی حکیم ،جعلی ڈگری ،جعلی پیسے ،جعلی بھرتیاں،جعلی فیس بک، جعلی تعلیم اورحتیٰ کہ جعلی شناختی کارڈبنائے جانے لگے ہیںحالانکہ ایساکرنے والے ہیںبھی اب بھی مسلمان بھی ہیں نمازی بھی ہیںحاجی بھی ہیں روزہ داربھی ہیںمارکیٹ میں موبائل لینے جاﺅتوجعلی فیس بک اکاﺅنٹ کھولوتوجعلی لڑکیاں کسی بڑے ہوٹل سے کھاناکھاﺅتوجعلی اس لیے اب دوسرے ممالک میںپاکستان کی پہچان جعلی کے نام سے ہوگئی ہے اورتواورغیرملکی شہریت کے حامل لوگ یہاںاقتدارکی لگامیںسنبھال لیتے ہیںاس لیے توہربندہ کہتا ہے ۔ اے میرے ہم نشیںچل کہیںاورچل اس چمن میںہماراگزارانہیں۔۔۔بات بوٹی کی ہوتی توسہہ لیتے ہم اب توآلو پہ بھی حق ہمارانہیں۔۔۔۔نوازشریف کامنگل کولندن میںدل کاکامیاب آپریشن ہوگیااوروہاںقیام طویل ہوگا۔کیاکہیںاحباب کیاکارنمایاںکرگئے بی اے کیانوکرہوئے اورپنشن ملی اورمرگئے ۔لوگوںکاخیال ہے میاںصاحب بھی ایساکرتے اورچپ چاپ مرجاتے لیکن میاںصاحب میںتونہ مانوںوالی ضدکے ساتھ ایساکچھ نہیںکرپائے البتہ ایوان اقتدارکے تیسری بارمزے اٹھائے اوراب چوتھی باری کے منتظرتھے کہ پانامامیںان کانام آگیااورنجومیوںنے انہیںاگلی بارآرام کامشورہ دیاہے اوراسی مشورے کوسن کرمیاںصاحب نے زرداری سے ملاقات کے لیے ہاتھ پاﺅں مارناشروع کیے ناکامی پردل تھام لیااب کچھ لوگ کہتے ہیںکہ میاںصاحب کارڈیالوجی جاتے وہیں سے اپنے دل کاآپریشن کرواتے اوردیکھتے کہ عام مریض کس طرح اسپتالوںمیںتڑپ تڑپ کرجان دے دیتے ہیںاورزبان سے کہتے ہیںجان تودے دی جودی ہوئی اسی کی تھی مگرحق تویہ ہے کہ حق اداہونہ سکاان سب کے لیے جواب پہلی بات کہ میاںصاحب یہ یقین رکھتے ہیںکہ جس طرح پاکستانی سیاست کاہیڈکوارٹرلندن میںہے ویسے ہی ایسے سیاست دانوںکاعلاج بھی لندن میںہے ،دوسری بات کارڈیالوجی سینٹرمیاںصاحب کے سیاسی حریف چودھری پرویزالہی کاتحفہ ہے اوردشمن کاتحفہ قبول کرناہماری گھٹی میںنہیںہے تیسری بات اگرمیاںصاحب یہاںسے علاج کرواتے توانہیںیقین تھاکہ یہاںکے ڈاکٹرکسی کے کہنے پرانہیںہمیشہ ہمیشہ کے لیے سفرآخرت پرروانہ کرسکتے تھے بلکہ میاںصاحب تویہی چاہتے ہیںکہ انہیںموت بھی اپنے آقاﺅںکے بیچ میںآئے اس لیے کہ ع نکل جائے دم ان کے قدموںکے نیچے یہی دل کی حسرت یہی آرزوہے انہوںنے یہ تمام احتمالات سامنے رکھتے ہوئے لندن میںقیام کوترجیح دی ہے اورپوری قوم تسلی میںرہے میاںصاحب بالکل صیحح سلامت واپس آئیںگے اورآکرپاکستان کاعلم تھام لیںگے رہاعمران خان کامسئلہ وہ توتین سال کابچہ ہے بھلابچوںکاکیاکام استیعفوںسے بچوںکاکام روناہے اورخان صاحب روتے رہیںگے اورخان صاحب اگرچپ نہیںہوںگے تومجبوراًراناثناءاللہ کومیدان میںآناپڑے گاابھی وہ تحفظ نسواںبل بارے مولویوںکامنہ بندکرانے پرتلے ہیںاورسناہے کہ راناصاحب کالی زبان رکھتے ہیںجس کے خلاف بول پڑیںتووہ پھراپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھتاہے بعدمیںخان صاحب اس دنیامیںنہ رہیںاورتحریک والے کہتے پھریںکہ خان صاحب کوجان بوجھ کرشہدکے چھتے میںہاتھ نہیںڈالناچاہیے تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں