New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

15 مئی کو ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں ہونے والی سماعت کا منظر

پیر کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے انڈین اور پاکستانی حکام کے دلائل سنے جہاں پاکستان کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے بیرسٹر خاور قریشی نے کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت عالمی عدالتِ انصاف کا دائرۂ اختیار محدود ہے اور کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں نہیں لایا جا سکتا۔

’کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں نہیں لایا جا سکتا‘

'جب تک دونوں ملک رضامند نہیں، سماعت نہیں ہو گی'

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ہنگامی نوعیت کا نہیں جیسے کہ انڈیا کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے۔

یاد رہے کہ مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی جانب سے ان کا ایک ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں وہ یہ اعتراف کرتے دکھائی دیے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہے تھے۔

انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے اس ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا انڈیا کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔

انڈیا نے عالمی عدالتِ انصاف سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ جادھو کی پھانسی کے خلاف اپیل کرنے کے لیے بہت کم وقت ہے اور پاکستان میں اس سلسلے میں تمام امکانات پر غور کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔

پاکستان کے وکیل نے کہا کہ انڈیا کے دلائل میں تضاد ہے اور وہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔


loading...