New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

کلبھوشن جادھو کب مرے گا؟

منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ ، واہگہ پہ ٹانگیں پھیلا کر مر گیا ، ایک ٹانگ، ہندوستان میں اور ایک پاکستان میں ، انیکس دی آف دی بے دھیاناں دی آف دی انڈیا اینڈ پاکستان گورنمنٹ دی در فٹے منہ ۔
اشتہار
ٹوبہ ٹیک سنگھ ، تھا ، نہیں تھا،کہاں تھا، دونوں ملک وسائل سمیٹنے اور اپنے اندر کے غوری اور پرتھوی کو شاد کرنے میں ایسے گم ہوئے کہ کسی کو یاد بھی نہ رہا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ صاحبو! یہ ہندوستان ، پاکستان کی کہانی ، اتنی عجیب ہے، اتنی تکلیف دہ اور جذباتی کہ اس کو بیان کرتے کرتے اچھا بھلا انسان ، بشن سنگھ بن جاتا ہے۔
پچھلے ستر سال پہ نظر ڈالیں تو آگ اور خون، سازشوں، خباثتوں سے لکھی ایک طویل داستان ہے، جس میں ہر قدم پہ انسان خسارے میں نظر آئے گا۔ دونوں ملک اپنی اپنی، خود ساختہ کامیابیوں پہ خوش اور ناکامیوں کا ذمہ دار دوسرے ملک کو ٹھہرا کے نفرت کی اس بھٹی میں مزید انسانوں کا ایندھن جھونکے جا رہے ہیں۔
کلبھوشن جادھو کو سال بھر سے زیادہ عرصہ ہوا، بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔ اس نے ہندوستان کے لئے جا سوسی کرنے کا الزام بھی قبول کیا۔ کلبھوشن کو سزائے موت سنا دی گئی۔ ان ہی دنوں پاکستان کے وہ آفیسر جن کی کو ششوں سے کلبھوشن پکڑا گیا تھا، نیپال گئے اور مبینہ طور پہ ہندوستان نے ان کو اغواء کر لیا۔
شطرنج کی بساط پہ ، شتر کے بدلے شتر اٹھا لیا گیا۔ چال کے بدلے چال چلی جارہی ہے۔ کافوری سروں والے بڈھے، چشمے چمکاتے، بلغمی آوازوں میں کھنکھارتے، تجزیے کرتے ہیں، کان کھجاتے ہیں ، ناک کی پھننگ پہ نظر جما کے دنیا کے نقشے کو ٹٹولتے ہیں اور آنے والے وقت میں نظریں گاڑ کے پیش گوئیاں کرتے ہیں ۔
انڈیاتصویر کے کاپی
ممبئئ میں کلبھوشن جادھو کے محلے سے تعلق رکھنے والے ان کے دوست کلبھوشن کی عالی عدالت انصاف کی جانب سے ان کی سزائے موت پر حکم امتناعی جاری کرنے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں
دونوں طرف کے عوام، پاپ کارن کے تھیلے لئے، پھانسی ہو گی، پھانسی نہیں ہو گی کہ منتظر ہیں۔ عالمی عدالت، قیصرکی طرح اپنا انگوٹھا دبائے بیٹھی ہے، آر یا پار۔ گلیڈی ایٹرز کے خیال سے نکلیے۔
پاکستان اور ہندوستان، دو سیاسی جماعتوں کے نظریات تھے۔ مسلم لیگ، مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم کہتی تھی، جب کہ کانگریس، مسلمانوں کو صرف ہندوستانی کہتی تھی۔
یعنی، اختلاف ایک نظریاتی اور سیاسی سوچ کا ، بہت تکنیکی سا مسئلہ تھا۔ جو کہ آزادیء ہند کا ایک ذیلی معاملہ تھا۔ اصل مسئلہ، ہندوستان کی آزادی تھی۔ آزادی کا پروانہ ملنے کے بعد ، اگلا مرحلہ تھا تقسیم کا۔ آزادی انگریز نے دینی تھی، دے دی، تقسیم بھی کچھ کہہ سن کر کرا دی گئی تھی۔
یعنی سب کچھ عوام کے منتخب نمائندوں کی مرضی سے ہوا۔ اس ایجنڈے میں کہیں یہ نہیں لکھا گیا تھا کہ مسلم، یا ہندو اقلیتیں اپنے گھر بار چھوڑ کے اکثریتی علاقوں کی طرف چلی جائیں گی۔
فسادات کیوں ہوئے ، اس کے بارے میں ہزار روایات ہیں اور کوئی بھی روایت ، نہ سچی ہے نہ جھوٹی۔ مگر یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جتنا خون ان فسادات میں بہا ، اتنا خون، دونوں ملکوں کے درمیان بپا ہونے والی، تینوں جنگوں میں بھی نہیں بہا۔ فسادات میں ڈنڈے، درانتیاں، کسیاں، کرپانیں ،تلواریں اور چھریاں استعمال کی گئیں۔
نہ ایٹم بم چلایا گیا اور نہ ہی ،توپیں چڑھیں ۔ نہ طبلِ جنگ بجا۔ ہاں دونوں ملک، آزاد ہو گئے اور عوام نے اپنی اپنی آزادی کا ثبوت ایسے دیا کہ حیوان بھی شرما گیا۔
وہ دن جاتا ہے آج کا دن آتا ہے، کشمیر کا مسئلہ، ہو، بنگال ہو، خا لصتان کی تحریک ہو، یا بلوچستان میں پھیلائی گئی بد امنی، دونوں ملکوں کے درمیان معاملات الجھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔غریب عوام اپنے اپنے پیٹ کاٹ کر افواج کے سفید ہاتھی پال رہے ہیں۔
اس وقت حالات یہ ہیں کہ دونوں ملکوں میں دائیں بازو کی جماعتیں حکومت بنائے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے حالات دیکھ کر لگتا ہے، پاکستان ناگزیر تھا اور پاکستان کے حالات دیکھ کر لگتا ہے، ہم ہیں خوامخواہ اس میں۔
انڈیاتصویر کے کاپی رائٹ
مظفرآباد میں پاکستانی عالمی عدالت انصاف کی جانب سے کلبھوشن جادھو کی سزائے موت کے خلاف حکم امتناعی کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔
لیکن دونوں ملکوں کے عوام، کلبھوشن کے لئے شدید جذباتی ہوئے ناخن چبا رہے ہیں، مرے گا، بچے گا، مرے گا ، بچے گا۔ ممکن ہے سٹہ بھی کھیلا جا رہا ہو۔ مگر یہ صرف مجھے معلوم ہے کہ کلبھوشن کب مرے گا۔
جی ہاں، کلبھوشن کو پھانسی بھی دے دی جائے گی تو وہ نہیں مرے گا، کیونکہ وہ ایک انسان نہیں سوچ ہے۔ ہمسائے کے گھر میں آگ لگانے کی سوچ۔ جھوٹے قومی وقار کی سوچ، سرحدوں اور انسانی معاہدوں کے احترام نہ کرنے کی سوچ۔
’حتمی فیصلے تک کلبھوشن کو سزائے موت نہ دی جائے‘
کلبھوشن جادھو کیس، کب کیا ہوا
سوچ کو پھانسی پہ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ اجمل قصاب، کلبھوشن یادو، صرف اس وقت مریں گے ، جب ہم عوام، گلیڈی ایٹرز کا یہ کھیل دیکھنے سے تائب ہو جائیں گے، ورنہ بشن سنگھ وہیں پڑا رہے گااور زبانِ حال سے پکار پکار کے کہتا رہے گا،' انیکس دی آف دی بے دھیانا دی، مونگ دی دال دی، پاکستان اینڈ انڈیا دی در فٹے منہ۔'


loading...