New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

پی ایس پی کے مارچ پر پولیس کی شیلنگ، اہم رہنما گرفتاری کے بعد رہا

مصطفی کمال نے رہائی کے بعد پیر کی علی الصبح میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی کی عوام کو سلام پیش کرتے ہیں جنھوں نے جابر اور ظالم حکمرانوں کو خوفزدہ کر دیا۔
پاکستان سر زمین پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ خواتین اور بچوں پر شیلنگ کی گئی۔
مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
خیال رہے کہ مصطفیٰ کمال نے شہر میں پانی کی عدم فراہمی، واٹر سیوریج بورڈ کی خود مختاری، سڑکوں کی تعمیر، تعلیم کی بہتری، کے الیکٹرک کی اوور بلنگ، شہر کے ہسپتال، سڑکوں اور پارکوں کے میٹروپولیٹن کے حوالے کرنے پر مشتمل 16 مطالبات کے حق میں وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کا اعلان کیا تھا۔
مصطفیٰ کمال کی سرگرمیوں میں تیزی
شاہراہ فیصل پر واقع ایف ٹی سی سینٹر سے اتوار کی شام اس مارچ نے چلنا شروع کیا لیکن چند قدم کے بعد پولیس نے عائشہ باوانی کالج کے قریب رکاوٹیں کھڑی کرکے انھیں روک دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب، وقار مہدی اور دیگر رہنما مظاہرین سے مذاکرات کے لیے پہنچے لیکن مصطفیٰ کمال نے مطالبات تحریری طور پر تسلیم کرنے کے علاوہ زبانی یقین دہانی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
مصطفیٰ کمال کی قیادت میں کارکنوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس حکام نے انھیں بتایا کہ وہ ریڈ زون میں داخل نہیں ہوسکتےاس کے باوجود کارکن آگے بڑھے تو پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔
مصطفیٰ کمال نے پولیس حکام سے شکایت کی کہ انھوں نے ایک بھی پتھر نہیں پھینکا پھر شیلنگ کیوں کی گئی جس کے بعد مصطفیٰ کمال سمیت رضا ہارون اور ڈاکٹر صغیر احمد کو گرفتار کر لیا گیا تاہم چند گھنٹے کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔


loading...