New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

پاکستان کے چیمپیئنز ٹرافی جیتنے کی پانچ وجوہات.. پاکستان کی تاریخ ساز کامیابی

ایک ماہ پہلے تک پاکستان کو یہ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرے تو کیونکر؟ بنگلہ دیش کے ساتھ سیریز کھٹائی میں پڑ چکی تھی اور یہ کسی کو گمان بھی نہ تھا کہ پاکستان چیمپئنز ٹرافی کے اگلے مرحلے تک پہنچ بھی پائے گا۔
اشتہار
لیکن تین ہفتوں کے سفر میں ہی کچھ ایسی کایا کلپ ہوئی کہ نہ تو رینکنگ آڑے آئی نہ ہی کوالیفکیشن کا بوجھ، اور پاکستان سبھی رکاوٹیں پھلانگتے چیمپئین بن گیا۔
ہمارے خیال میں پانچ وجوہات نے پاکستان کے اس ناقابل یقین سفر میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان غالباً دنیا کی واحد ٹیم ہے جو ہر سال کم از کم تین اوپننگ جوڑیاں بدلنا لازمی جانتی ہے۔ لیکن عقدہ یہ ہے کہ معاملہ پھر بھی نہیں سلجھ پاتا۔ شرجیل خان کی شکل میں ایک حل دکھائی دیا تھا مگر سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد معاملہ اتنا گھمبیر ہو گیا کہ دورہ ویسٹ انڈیز کے لیے ایک بار پھر احمد شہزاد اور کامران اکمل کو یاد کیا گیا۔ ایونٹ کے آغاز سے پہلے پاکستان کو اس تنقید کا سامنا تھا کہ کامران اکمل کو ڈراپ کیوں کیا گیا۔ ایسے میں اگر احمد شہزاد بھارت کے خلاف پہلے میچ میں کامیاب ہو جاتے تو شاید فخر زمان کو اور انتظار کرنا پڑتا، اور ان کے ساتھ ہی پاکستان کو بھی۔

کوئی دور تھا جب پاکستان کے پاس اظہر محمود اور عبدالرزاق جیسے آل راونڈرز ہوا کرتے تھے اور بڑے سے بڑے ہدف کے تعاقب میں بھی ڈریسنگ روم پہ کوئی خوف طاری نہیں ہوتا تھا۔ لیکن گذشتہ ایک عشرے میں پاکستان کے بیٹنگ آرڈر کو سب سے بڑا بحران یہ درپیش رہا کہ آخری دس اوورز میں پاکستان کی بیٹنگ ہی ختم ہو جاتی تھی۔ بنگلہ دیش کے خلاف وارم اپ میچ میں فہیم اشرف نے جس طرح کی اننگز کھیلی، اس نے ٹیم میں ایک نیا یقین پیدا کر دیا۔ گو کہ بعد میں صرف سری لنکا کے خلاف ہی پاکستان کے لوئر آرڈر پہ ذمہ داری پڑی مگر یہ وہی یقین تھا جس کی بدولت محمد عامر نے نہایت یادگار اننگز کھیل ڈالی اور سیمی فائنل تک پاکستان کی رسائی کو یقینی بنایا۔

ماڈرن ون ڈے کرکٹ میں جب سے دو نئی گیندوں کا استعمال شروع ہوا ہے، ریورس سوئنگ تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔ ایسے میں مڈل اوورز وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں میچ کا رخ متعین ہوتا ہے۔ اگر بولنگ سائیڈ متواتر وکٹیں لینے میں کامیاب رہے تو رن ریٹ کے آگے بند باندھ سکتی ہے ورنہ دس اوورز تک کوئی پارٹنرشپ چل جائے تو بولنگ سائیڈ میچ سے باہر ہو جاتی ہے۔ پاکستان نے اس ٹورنامنٹ میں یہ عادت اپنائی کہ مڈل اوورز کے بیچ وکٹیں لینا شروع کر دیں، جس کی وجہ سے مخالف ٹیموں کے مڈل آرڈر کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا۔


loading...