New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

راز

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ترک بادشاہ تکش کواپنے ایک غلام پر بے حد اعتماد اور وہ اس سے اپنی ہربات کیاکرتاتھا۔ ایک دن اس نے اپنے اس غلام کو ایک ایسی بات کہی جس کے بعد تاکید کی کہ وہ یہ بات کسی کونہ بتائے گا۔
اس غلام نے وعدہ کرلیا مگر یہ وعدہ پورا نہ کرسکا اور ایک سال گزرنے کے بعد بادشاہ کاوہ رازاپنے ایک دوست کوبتادیا اورساتھ ہی اس سے یہ وعدہ لیا کہ وہ اس بات کوکسی کے سامنے بیان نہیں کرے گا۔ یووہ بات جسے بادشاہ چھپانا چاہتا تھا تقریباََ سارے شہر میں مشہور ہوگئی ۔
بادشاہ تکش کو جب علم ہوا تو اسے اپنے اس خاص غلام پر بہت غصہ آیا اور اس نے حکم دیا کہ اس قتل کردیا جائے اور اسکے ساتھ کے دیگر تمام غلاموں کو بھی قتل کردیا جائے جنہوں نے اس راز کو فشا کرنے میں حصہ لیا ہے ۔ بادشاہ کاحکم ملتے ہی جلادوں نے تلواریں سونت لیں اور ان غلاموں کو قتل کرنے پر آمادہ ہوگئے۔
جب موت سر پر منڈلانا شروع ہوئی توایک دانا غلام نے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ حضور! ہم سب گناہ گار ہیں کہ ہم آپ کے راز کی حفاظت نہیں کرسکے لیکن آپ یہ بھی تودیکھیں کہ گناہ تو آپ سے ہوا ہے کہ جس راز کی حفاظت آپ خود نہیں کرسکے اس کی حفاظت ہم جاہل کرسکتے تھے ؟
اہل دانش کہتے ہیں کہ راز اس وقت تک راز ہے جب تک تمہارے دل میں ہے جب تم اپنے راز کو دوسروں پر عیاں کردوگے تو پھر وہ راز قیدسے آزاد ہوجائے گا اور جس کی حفاظت تم خود نہ کرسکے دوسروں سے اس کی توقع ہر گزنہ رکھو۔ مضبوط گھوڑے کی رسی اگر ایک کمزور بچہ کھول سکتا ہے تو پھر جب وہ آزاد ہونے کے بعد سرپٹ بھاگے گاتو پھر بڑاسے برا پہلوان بھی اسے قابو نہیں کرسکے گا۔ دیوجب آزاد ہوجاتا ہے تو اسے دوبارہ قید نہیں کیا جاسکتا۔


loading...