New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

جنیاتی تبدیلی برڈ فلو کی انسانوں میں منتقلی کا باعث

ماہرین کا کہنا ہے کہ فقط ایک جنیاتی 'لیٹر' کی تبدیلی فلو کا وائرس پرندوں سے انسانوں میں منتقل کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن وائرسز میں تبدیلی ہوتی ہے اگر ان پر نظر رکھی جائے تو وہ ان کے انسانوں میں منتقل ہونے کے بارے میں باخبر ہوا جا سکتا ہے۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی میں ماہرین نے برڈ فلو کے کچھ نمونوں کا معائنہ کیا جنھوں نے کئی برس تک چین میں انسانوں میں برڈ فلو کو منتقل کیا تھا۔
خیال رہے کہ پرندوں کو مختلف قسم کے فلو ہوتے ہیں تاہم ان میں سے چند ہی ایسے ہیں جو انسانوں میں بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ صحت کے مطابق H7N9 برڈ فلو کی ایک قسم ہے جس نے چین میں 1000 افراد کو انفیکشن میں مبتلا کیا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر افراد کا تعلق پولٹری کی مارکیٹوں سے تھا یا وہ ان کے قریب رہتے تھے۔
پروفیسر ہانگلن چن اور ان کے ساتھیوں کے مطابق اگر ایک نیکلیو ٹائیڈ میں تبدیلی آجائے تو وہ ایچ سیون این نائین وائرس کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ انسانی خلیوں پر حملہ کرے۔
لنکشائر یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر ڈریک گیدرر کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ چین میں حال ہی میں برڈ فلو کی وجہ کسی حد تک سرد موسم کو قرار دیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ اس وائرس میں تبدیلی اور اس کا بڑھنا اچھی خبر نہیں ہے۔
ماہرین کے مشاہدات کے مطابق یہ تبدیلی برڈ فلو کی دیگر اقسام میں بھی ہوتی ہے جیسا کہ ایچ نائن این ٹو 15سال تک پھیلاتا رہا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ برڈ فلو ایک ہی قسم کا نہیں ہوتا۔
یہ تحقیق نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئی ہے جس سے یقیناً مستقبل میں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ برڈ فلو پھیلتا کیسے ہے اور تبدیلیاں کیسے ہوتی ہیں جو پھر وائرس کا سبب بنتی ہیں۔


loading...