New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

تقدیر کے اجزا

تقدیر تین بنیادی اجزاء پر مشتمل ہے. پہلا ہے تقدیر جبری یعنی وہ عوامل جو آپ کے اختیار سے باہر ہیں جیسے آپ کا رنگ، نسل، خاندان وغیرہ. دوسرا ہے تقدیر اختیاری یعنی وہ عوامل جو آپ کے عمل سے مشروط ہیں جیسے امتحان میں کامیابی کے لئے پڑھنا، صحت کے لئے پرہیز یا دعا کرنا وغیرہ. تیسرا اور آخری حصہ ہے ، آزادی ارادہ و اختیار یعنی دو راہوں میں سے کسی ایک راہ کو چننے کی آزادی. تقدیر ان تینوں کے ملاپ سے تشکیل پاتی ہے. ان تینوں اجزاء کے علاوہ ایک چوتھی چیز الله کا علم ہے جو ان تمام ارکان کا پیشگی احاطہ کئے ہوئے ہے. یہ بات سمجھنے کی ہے کہ آپکی کسی بات کا الله کو پہلے سے علم ہونا اس امر کی دلیل قطعی نہیں ہے کہ آپ اس عمل کے کرنے پر مجبور تھے. ایک آخری بات یہ ہے کہ آپ کی آزادی یہاں تک تو ہے کہ آپ کسی شے کا ارادہ کرلیں مگر یہ الله کی منشاء پر ہے کہ وہ آپ کے اس ارادے کو کامیاب ہونے دے یا پھر کسی برتر اور مجموئی کائناتی مصلحت کے پیش نظر اسے موخر یا مسترد کردے. مثال کے طور پر ایک شخص قتل کرنے کی نیت سے باہر نکلتا ہے، خنجر نکال کر اپنے ہدف کی جانب جاتا ہے. اب عمومی اعتبار سے چونکہ یہ دنیا امتحان کے اصول پر قائم ہے لہٰذا اسے زبردستی روکا نہیں جائے گا مگر یہ ممکن ہے کہ اگر اسکا یہ عمل خدا کے علم میں مجموئی کائناتی اسکیم سے کسی طرح متصادم ہوتا ہے تو اسے کسی بہانے روک دیا جائے یعنی وہ ارادہ تو کر کے نکلے مگر اسکا ایکسیڈنٹ ہو جائے یا کوئی اور مجبوری آڑے آجائے جو اسے اپنی خواہش پوری نہ کرنے دے. سادہ الفاظ میں ارادہ انسان کے اختیار میں ہے، مگر اس ارادے کا نتیجہ ضروری نہیں کہ انسان کی مرضی کے مطابق برآمد ہو.


loading...