New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

بے فیض

حضرت سعدی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ملک شام میں رہنے والے ایک ہمہ صفت موصوف شخص کاذکر کرسنا تواپنے کچھ دوستوں کو ساتھ لے کر اس کی زیارت کے لئے پہنچ گیا، یہ شخص خاصا خوش حال تھا۔ سواری کے لئے گھوڑے، رہنے کے لئے اعلیٰ درجے کا مکان ، باغ باغیچے اور نوکر چاکر سبھی کچھ خدا نے دے رکھا تھا۔ ہمارے آنے کا حال سنا تو اس نے بہت گرمجوشی سے ہمارا استقبال کیا۔ ہر شخص کے ہاتھ چومے اور بہت عزت سے بہترین فرش پر بٹھایا۔ گفتگو بھی بہت مروت سے کی لیکن اسے طرف بالکل توجہ نہ دی کہ کوئی شخص بھی کھائے پیئے بغیر آسودہ نہیں رہ سکتا۔
کافی رات گئے تک وہ ہمارے ساتھ باتیں کرتا رہااور پھر عبادت کے لئے اپنی خلوت گاہ میں چلاگیا۔ بھوک پیاس کی تکلیف سے ہم ساری رات بے قرار رہے۔ خیال تھا کہ صبح ہوگی تو ہمارے لئے دستر خوان بھچوائے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ صبح کے وقت وہ ہمارے پاس آیا، پہلے کی طرح ہاتھ چومے اور شیریں لہجے میں باتوں کا سلسلہ شروع کردیا۔
میرے ہم راہیوں میں ایک بے باک نوجوان بھی تھا۔ جب اس نے اندازہ کرلیا کہ یہ شخص رات کی طرح دن میں بھی بھوکا رکھنے کا ارادہ کئے ہوئے ہے تو اس نے کہا، اصل بات توہے کہ درویش کے لئے توشہ بولے سے بہتر ہوتا ہے ۔ آپ ہمارے جوتے نہ اٹھائیں بلکہ کھانے کو کچھ دیں۔ نوجوان مرد سخاوت ہی کے باعث جیت گئے نہ کہ رات بھر جاگ کر عبادت کرنے والے ۔
حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی حکایت میں قولی عبادت پر عملی عبادت کی فضلیت بیان فرمائی ہے اور یہ بات فلسفہ اسلام کے عین مطابق ہے جولوگ حجروں میں بند ہو کراللہ اللہ کرنے کو بہت بڑا کمال خیال کرتے ہیں ان کے مقابلے میں ان کا درجہ بہت بلند ہے جوخدا کے بندوں کابوجھ ہلکا کرتے ہیں اور خدانے اپنے فضل سے انہیں جو کچھ دیا اسے خیر کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں ۔


loading...