New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

برہان وانی کی برسی پر کشمیر میں کرفیو اور انٹرنیٹ معطل

نڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے ایک سال مکمل ہونے پر کشمیر میں ہڑتال ہے۔

حریت كانفرنس اور جہاد کونسل کی اپیل پر یہ ہڑتال کی جا رہی ہے۔
ان تنظیموں نے ایک ہفتے کی ہڑتال کی اپیل کی ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ برہان وانی کی برسی منانا حماقت ہے کیونکہ وہ کسی کا ہیرو نہیں ہو سکتا۔
انتظامیہ نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ دارالحکومت سرینگر اور جنوبی کشمیر میں کرفیو اور دفعہ 144 نافذ ہے اور انٹرنیٹ کی خدمات معطل ہیں۔
٭ کشمیر:عسکری، نفسیاتی، سیاسی تبدیلیاں
٭ کشمیر: برہان کی برسی پر سخت سکیورٹی، اضافی نفری تعینات
برہان وانی کے علاقے ترال اور اس کے قرب و جوار میں پولیس اور سرحدی فورس کے اہلکاروں کا سخت پہرہ ہے۔
حریت کے تمام بڑے لیڈروں کو پہلے ہی ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔
حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ انھیں 12-13 دن سے ان کے گھر کے اندر رکھا گیا ہے۔ ان کے گھر تک پہنچنے پر بی بی سی کی ٹیم کو سکیورٹی اہلکاروں نے اندر جانے سے روک دیا۔
انٹرنیٹ کی سہولیات جمعے کی رات سے ہی منقطع کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق صورت حال کے جائزے کے بعد ہی ان خدمات کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

کشمیر کے حساس علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں
انٹرنیٹ سہولیات ختم کرنے کے فیصلے پر عام لوگوں نے سخت مذمت کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز کے دفاتر میں بھی کچھ افسروں نے اس پر ناراضگی ظاہر کی۔
مرکزی ریزرو پولیس فورس کے ایک اعلیٰ افسر اجے کمار کے مطابق فورس کو پوری وادی میں تعینات کیا گیا ہے۔
دارالحکومت سری نگر میں ہر اس علاقے میں آٹومیٹک رائفلوں سے لیس پولیس کی نفری تعینات ہیں جہاں لوگوں زیادہ ہوتے ہیں۔
جمعہ کو شہر کی جامع مسجد میں نماز کی اجازت نہیں دی گئی۔ اجے کمار کے مطابق ہر شہر کے جامع مساجد میں جمعہ کی نماز پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
اطلاعت کے مطابق چھوٹی مساجد میں جمعہ کی نمازیں ادا کی گئيں لیکن وہاں بھی حکام نے امام مسجد سے جمعے کے خطبے میں سیاسی باتیں نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
وادی میں صورت حال کشیدہ ہونے کی وجہ سے انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی کے نقطہ نظر سے تمام ممکنہ اقدام کیے گئے ہیں۔ اجے کمار کہتے ہیں انھیں نہیں لگتا کہ لوگوں میں ہڑتال کی اپیل کا کوئی خاص اثر ہے۔


loading...