New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

اوبر کے صدر جف جونز مستعفیٰ

صرف چھ ماہ تک عہدے پر تعینات رہنے کے بعد، ٹیکسی شیئرنگ کمپنی اوبر کے صدر جف جونز نے کمپنی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کمپنی کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ جف جونز کا استعفیٰ غیر متوقع تھا۔
ان کا کہنا تھا جف جونز کو یہ شکایت تھی کہ کمپنی چیف آپریٹنگ افسر کے عہدے کے لیے مناسب امیدوار ڈھونڈ رہی تھی مگر ان پر اس نوکری کے لیے غور نہیں کیا جا رہا تھا۔
تاہم ٹیکنالوجی نیوز ویب سائٹ ریکوڈ کا دعویٰ ہے کہ جف جونز کو کمپنی میں صنفی امتیاز اور ہراساں کرنے کے معاملات کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
ادھر اوبر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم جف جونز کو ان کی چھ ماہ کی ملازمت کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں اور مستقبل کے لیے ہماری ان کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔‘
تاہم کمپنی کے کچھ اہلکاروں کے خیال میں جف جونز کی جانب سے اس طرح بغیر پلان بنائے کمپنی چھوڑ دیحنا ُیر پیشہ وارانہ ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کا استعفیٰ فوری طور پر عمل میں لایا جائے گا۔
2017 میں اوبر کو مختلف مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ کمپنی پر صنفی امتیاز کے کلچر اور خواتین ملازمین کے ہراساں کیے جانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
اس سے قبل کمپنی کے بانی ٹریوس کلینک کو ایک ویڈیو میں ایک ڈرائیور کے ساتھ کمپنی کی جانب سے گرتی ہوئی آمدن کے بارے میں بحث کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی کو قیادت کی ضرورت ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں انھوں نے اعلان کیا کہ کمپنی چیف آپریٹنگ افسر ڈھونڈ رہی ہے


loading...