New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

انڈیا: پیپسی اور کوکا کولا نہیں صرف ناریل کا پانی

انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں تاجروں کی بعض تنظیموں نے مقامی ناریل کے پانی کو فروغ دینے کے لیے پیپسی اور کوک جیسے مشروبات کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اس پابندی کی تجویز کو ریاست کی دو بڑی تجارتی تنظیموں نے پیش کیا ہے جس کا نفاذ بدھ سے ہو رہا ہے۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ سافٹ ڈرنک کی کمپنیاں ان کے دریاؤں سے اتنا زیادہ پانی استعمال کر لیتی ہیں کہ کسان اپنی زمینوں کی آبپاشی کو ترس جاتے ہیں۔
امکان ہے کہ تقریباً 10 لاکھ دکان دار اس پابندی پر عمل کریں گے۔
تجارتی تنظیم 'فیڈریشن آف تمل ناڈو ٹریڈرز ایسو سی ایشنز' اور 'تمل ناڈو ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فورم' کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ ماہ جلی کٹّو پر عائد پابندی کے خلاف بڑی تعداد میں نوجوانوں کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔
روایتی بل فائٹنگ جلی کٹّو کی حمایت میں احتجاج کرنے والے بیشتر مظاہرین کا موقف تھا کہ اس طرح کی پابندی ان کی مقامی تہذیب و ثقافت کے خلاف ہے۔
تنظیم کے صدر تھاویلیئن نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ہم نے سافٹ ڈرنک کے خلاف کئی ماہ قبل مہم شروع کی تھی لیکن اس مہم میں تیزی اس وقت آئی جب ہم نے جلی کٹّو پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی حمایت کی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ 'پیپسی اور کوکا کولا جیسی مشروبات میں بہت زیادہ چینی اور کیمیائی اجزا ہونے کی وجہ سے ایسی مشروبات آپ کی صحت کے لیے اچھی نہیں ہیں۔ ہم انڈین سافٹ ڈرنک کو فروغ دے رہے ہیں اور ہم جوس کی فروخت کی حوصلہ افزائی کریں گے۔'
مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ ان تجارتی ایسوسی ایشنز نے سپر مارکیٹ، ریستوران اور ہوٹلوں سے بھی اس پابندی پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔
پیپسی اور کوکا کولا کی جانب سے فی الحال اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آيا ہے۔


loading...