New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

اللہ کا دوست

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ملک شام کے ایک بزرگ جن کا لقب اللہ کا دوست تھا آبادی سے نکل کربیابانوں میں آباد ہوگئے اور اللہ عزوجل کی عبادت اور اس کی یاد کے سواان کا کوئی کام نہ تھا۔ ان کی دنیا سے یہ بے رغبتی ان کی مقبولیت کا باعث بن گئی اور لوگ دور دور سے ان کی زیارت کے لئے آنے لگے ۔ لوگ ان کی خدمت میں حاضرہوتے اور اپنے لئے دعا کرواتے تھے ۔
اللہ عزوجل کایہ نیک بندہ جس علاقے میں رہتا تھا وہاں کا جاگیردار بڑاظالم اور سنگدل تھا۔ وہ جاگیردار ہر کسی کاحق مارتااوراور غریبوں پر ظلم وستم کیا کرتاتھا۔ اس جاگیردار سے ہر کوئی نالاں تھا۔ ایک دن اس جاگیردار کے دل میں نہ جانے کیاآئی وہ بھی ان بزرگ کی زیارت کے لئے چلا گیا ۔
اللہ عزوجل کے اس نیک بندے کا برتاؤہرایک ساتھ نہایت نرم ہوتا تھا مگر جب وہ جاگیردار آیا توان بزرگ نے نفرت سے اپنا منہ پھیرلیا۔ اس جاگیردار نے جب ان بزرگ کا یہ رویہ دیکھا تو کہنے لگا کہ آپ نے میری جانب نظر نہیں کی۔ کیا میں اس سلوک کا مستحق نہیں ہوں جو آپ دیگر لوگوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔
ان بزرگ نے جب اس جاگیردار کی بات سنی تو کہا تواس حسن سلوک کا مستحق کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ تواللہ عزوجل کی مخلوق پر ظلم کرتا ہے اور ان کا حق مارتا ہے ۔ میں اللہ عزوجل کی مخلوق کی پریشانی میں پریشان ہونے والا ہوں اور ان کے دکھ درد کاساتھی ہوں پس تو میرے دوستوں کادشمن ہے پھر تو میرا دوست کیسے ہوسکتا ہے ۔


loading...