New, Insurance, Public, Government, Daily, Property, Rents

آئل ٹینکر حادثہ: شیل پاکستان نے جرمانہ اور متاثرین کو ہرجانے کی رقوم دونوں ادا کر دیں

پیٹرولیم کمپنی شیل پاکستان نے گذشتہ ماہ پنجاب کے شہر بہاولپور کے قریب آئل ٹینکر کے حادثے میں غفلت کا مرتکب ہونے پر عائد کردہ جرمانے اور متاثرہ افراد کے معاوضے کی رقم حکومت کے پاس جمع کروا دی ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق تیل اور گیس کے ریگولیٹری ادارے اوگرا کے نام شیل نے مجموعی طور پر ساڑھے تین کروڑ روپے جمع کروائے ہیں۔ ان میں سے ایک کروڑ روپے جرمانے کی مد میں اور ڈھائی کروڑ روپے اس حادثے سے متاثر ہونے والے افراد کے معاوضے کی ادائیگی کے لیے ہیں۔
اوگرا نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کا حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے اس حادثے کا ذمہ دار شیل پاکستان کو قرار دیتے ہوئے جرمانے اور معاوضے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔
* خطرناک مواد سے لدی گاڑیاں ’چلتے پھرتے بم‘ ہیں
* ڈی این اے مل گیا تو بلائیں گے ورنہ۔۔۔
* سانحہ احمد پور سے ایک اچھی چیز
منگل کو شیل پاکستان نے جرمانے کی مد میں ایک کروڑ روپے اوگرا کے پاس جمع کروائے تھے جسے اوگرا نے مسترد کرتے ہوئے شیل سے کہا تھا کہ وہ ہلاک ہونے والے دو سو سے زائد افراد اور ایک سو سے زائد زخمیوں کے لیے معاوضے کی رقم بھی اوگرا کے پاس جمع کروائے۔
اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے بی بی سی کو بتایا کہ شیل کو تنبیہ کی گئی تھی کہ اگر اس نے مقررہ وقت تک معاوضے کی رقم بھی اوگرا کے پاس جمع نہ کروائی تو اس کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔
اوگرا کی طرف سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن بدھ کو ختم ہو رہی تھی اور اسی روز شیل نے معاوضے کی رقم بھی ادا کردی۔
صوبہ پنجاب کے شہر احمد پور شرقیہ کے قریب آئل ٹینکر کے حادثے میں اب تک دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں زخمی اب بھی صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
مذکورہ کمپنی کو اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ اور زخمیوں کو فی کس پانچ لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنا تھا۔
اوگرا کے مطابق غیرجانبدار انسپکٹرز نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں حادثے کی ذمہ داری شیل پر عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والا ٹینکر اوگرا یا کسی بھی سرکاری یا نجی حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ اس کے علاوہ آئل ٹینکر کا فٹنس سرٹیفکیٹ بھی جعلی تھا۔

رپورٹ کے مطابق آئل ٹینکر کا فٹنس سرٹیفکیٹ بھی جعلی تھا
یاد رہے کہ پاکستان کے ضلع بہاولپور کے علاقے احمد پور شرقیہ میں یہ حادثہ 25 جون کو اس وقت پیش آیا تھا جب کراچی سے وہاڑی ہزاروں لیٹر تیل لے جانے والا ٹینکر بستی رمضان جوئیہ کے قریب الٹ گیا تھا جس کے بعد مقامی افراد اس سے رسنے والا تیل جمع کرنے کے لیے اکٹھے ہوگئے تھے۔
اسی دوران نامعلوم وجہ سے وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی جس نے ہجوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
اس آتشزدگی کے نتیجے میں 125 افراد تو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ شدید زخمیوں کی ہلاکت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔


loading...